پاکستان اور ارجنٹائن میں زرعی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

پاکستان اور ارجنٹائن میں زرعی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی اور طلبہ و اساتذہ کے تبادلے کے امکانات کا جائزہ ارجنٹائن کے سفیر کا زرعی یونیورسٹی کا دورہ ،وائس چانسلرسے بھی ملاقات

فیصل آباد (سٹی رپورٹر) پاکستان میں ارجنٹائن کے سفیر سیباسٹین سایوس نے کہا ہے کہ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے درپیش اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹ سکیں۔ارجنٹائن کے سفیر نے ڈپٹی ہیڈ آف مشن مس ایرکا لوسرو کے ہمراہ گزشتہ روز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور ارجنٹائن کے تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں، بالخصوص زرعی تحقیق، تعلیم، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے زراعت اور غذائی تحفظ کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو کی۔سفیر سیباسٹین سایوس نے کہا کہ زراعت دونوں ممالک کی معیشتوں کا اہم ستون ہے اور اس شعبے میں مزید تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے موجودہ راستوں کو وسعت دینے اور ایسے شراکت داری کے منصوبے تشکیل دینے کے خواہاں ہیں جن کے معاشی اور تکنیکی اثرات زیادہ نمایاں ہوں۔ ارجنٹائن اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، غذائی تحفظ اور زراعت کو زیادہ پیداواری و پائیدار بنانے سمیت کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے ۔ انہوں نے زراعت اور متعلقہ شعبوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ صنفی شمولیت مستقبل کی ترقی کا اہم جزو ہے ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ ہم ارجنٹائن کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں دونوں ممالک علم، ٹیکنالوجی اور تجربات کے تبادلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وائس چانسلر نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی شراکت داری کو فروغ دیا جائے جس سے کسانوں کو عملی اور ٹھوس فوائد حاصل ہوں اور پائیدار زرعی ترقی و غذائی تحفظ میں مدد ملے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...