سموگ کا راج، شہریوں کا سانس لینا دشوار، محکمہ ماحولیات اور انتظامیہ خاموش تماشائی
فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ، دھوئیں اور کوڑا کرکٹ جلانے سے شہری آنکھوں کی جلن، گلے کی خراش اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ، عوام کا حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا) تحصیل اٹھارہ ہزاری میں فضائی آلودگی اور مختلف مقامات سے اٹھنے والے دھوئیں کے باعث سموگ کی شدت میں روز بروز اضافہ ہونے لگا، جس سے شہریوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا ہے ۔ فضا میں دھند اور آلودگی کی آمیزش نے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے، جبکہ شہری آنکھوں میں جلن، گلے کی خراش اور سانس لینے میں دشواری سمیت مختلف طبی شکایات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے، کوڑا کرکٹ کو آگ لگانے اور دیگر آلودگی پھیلانے والے عوامل کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ سموگ کی بڑھتی ہوئی شدت کے باعث بچوں، بزرگوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہری حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ فضائی آلودگی کی روک تھام اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کا ذمہ دار محکمہ تحفظ ماحولیات کہاں ہے ؟ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر جھنگ اور محکمہ تحفظ ماحولیات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے سموگ کے مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے ، دھواں چھوڑنے والے ذرائع اور کوڑا کرکٹ جلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ، ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments