علی پورچٹھہ ریلوے سٹیشن غفلت کے باعث زبوں حالی کا شکار

علی پورچٹھہ ریلوے سٹیشن غفلت کے باعث زبوں حالی کا شکار

علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر)علی پورچٹھہ ریلوے سٹیشن محکمانہ غفلت کے باعث زبوں حالی کا شکار ہو گیا ، رہائشی کوارٹرز اور گودام کھنڈرات میں تبدیل۔

بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ علی پورچٹھہ ریلوے سٹیشن جو 1887 میں قائم کیا گیا تھا اب شدید بدحالی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ ماضی میں یہ سٹیشن علاقے میں چاول، گندم اور دیگر اجناس کی ترسیل کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا اور یہاں سے محکمہ ریلوے کو خاطر خواہ آمدن بھی حاصل ہوتی تھی۔ اس مقصد کے لیے سٹیشن پر گودام اور رہائشی کوارٹرز بھی تعمیر کیے گئے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ عمارتیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق عملے کی عدم توجہ اور نگرانی کے فقدان کے باعث سٹیشن پر موجود لوہا، سکریپ، نٹ بولٹ، چھتیں اور دیگر قیمتی سامان مبینہ طور پر غائب ہو چکا ہے ۔ کئی عمارتیں نشئی افراد اور جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن چکی ہیں جس سے علاقے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سٹیشن کے اطراف گندگی کے ڈھیر اور سیوریج کے پانی کے جمع ہونے سے جوہڑ بن چکے ہیں جس سے تعفن پھیل رہا ہے اور مختلف بیماریوں کے خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں