کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب لمحہ فکریہ :رومانہ بشیر
اس حوالے سے مذہبی رہنماؤں والدین اور سماجی تنظیموں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )انسانی حقوق کی ممتاز علمبردار و پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رومانہ بشیر نے کہا ہے کہ کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب جیسے حساس مسائل لمحہ فکریہ ہیں اور اس حوالے سے مذہبی رہنماؤں والدین اور سماجی تنظیموں کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا ہمارے چرچ اور مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں شعور بیدار کریں تاکہ اپنی بچیوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور ایسے منفی عناصر سے دور رکھا جا سکے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور پاکستان پاسٹر فیلوشپ کے زیر اہتمام کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب کے موضوع پر فکری نشست سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں سیاسی ،سماجی شخصیات ومذہبی رہنماؤں نے شرکت کی ۔
رومانہ بشیر نے کہا 1872ء میں بنایا گیا کرسچن میرج لاء آج بھی مسیحیوں کیلئے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ اس قانون میں وقت کے مطابق ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں ۔اراکین اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری عوامی مفاد میں قانون سازی کرنا ہے تاکہ کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔پاسٹر طارق ولسن، پاسٹر ساگر، ڈاکٹر داؤد مسیح، ڈاکٹر عادل غوری، پاسٹر حنوک صدیق، پاسٹر صوفیہ عبید، پاسٹر سہیل جان، صحافی جاوید گل ۔ عبید رحمت،بشپ سراج مسیح اورناصر نیر نے بھی خطاب کیا اوراس امر پر زور دیا کہ والدین اپنے بچوں کو حساس سماجی مسائل سے آگاہ کریں اور معاشرے میں ذمہ دار شہری کا کردار ادا کریں ۔