زرعی اراضی سوسائٹیوں میں تبدیل،اجناس کی پیداوار کم

 زرعی اراضی سوسائٹیوں میں تبدیل،اجناس کی پیداوار کم

درختوں کی تعداد میں بھی خطرناک حدتک کمی سے فضائی آلودگی میں اضافہ

نوشہرہ ورکاں(تحصیل رپورٹر )زرعی اراضی ہا ئو سنگ سوسائٹیوں میں تبدیل،زرعی رقبہ سکڑنے لگا،اجناس کی پیداوار میں کمی ہو گئی ۔بتایا گیا ہے کہ وطن عزیز کے دیگر شہروں کی طرح نوشہرہ ورکاں کی ہر شاہراہ سے ملحق زرعی زمینوں کو تیزی سے فروخت کئے جانے کے باعث زرخیز زمین میں کمی آرہی ہے ، ملک میں آنے والی ہر حکومت زرعی اصلاحات کا نفاذ چاہتے ہوئے بنجر زمینوں کو فصلوں کیلئے کارآمد بنانے کیلئے جدید اور ہنگامی پالیسی اختیار کرتی نظر آتی ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹرمیں اس کے بالکل برعکس قیمتی زرعی زمینوں کو بلا روک ٹوک ہاؤسنگ سوسائٹیوں اورلینڈ مافیا کی نذر کرکے برباد کیا جا رہا ہے ۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے افراد کو گھروں کی چھتوں اور صحنوں میں سبزیاں اور پھل دار درخت اگانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

جبکہ پاکستانی شہروں میں قیمتی زرعی اراضی کو پلاٹوں کی شکل میں تقسیم کرکے مستقل طور پر ضائع چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے ملک کا کارآمد زرعی رقبہ سکڑتا چلا جارہا ہے اور مستقبل میں زراعت کو گھمبیر صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں زرعی رقبہ میں کمی سے درختوں کی تعداد میں بھی خطرناک حدتک کمی ہونے کے باعث ملک بھر میں فضائی آلودگی میں ہر روز اضافہ ہو رہاہے ۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور وفاقی حکومت کے صوبائی حکومتوں کو زرعی زمینوں پر کوئی رہائشی سکیم شروع نہ کرنے کی ہدایت کے باوجود اراضی مالکان اور لینڈ مافیا سرسبز کھیتوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کررہے ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں