8900 بوری گندم خوردبرد ،2 فوڈانسپکٹر برطرف

 8900 بوری گندم خوردبرد ،2 فوڈانسپکٹر برطرف

محکمانہ انکوائری میں ریاست علی اور بابر جاوید ضبط گندم کی فلور ملوں کو غیر قانونی منتقلی کے مرتکب قرار‘پیرا فورس افسروں پر بھی دوران کارروائی مالی لین دین کے الزامات

نوشہرہ ورکاں (تحصیل رپورٹر )محکمہ خوراک نوشہرہ ورکاں کا سرکاری گندم سکینڈل، ضبط شدہ سرکاری گندم غیر قانونی طریقے سے فلور ملزمنتقل کرنے پر2فوڈ گرینز انسپکٹرزملازمت سے برطرف کر دئیے گئے ۔بتایاگیا ہے کہ محکمہ خوراک گوجرانوالہ کی جانب سے کی گئی انکوائری میں فوڈ گرینز انسپکٹر ریاست علی اور بابر جاوید کو سرکاری گندم کی غیر قانونی منتقلی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق فوڈ گرینز انسپکٹر ریاست علی نے مبینہ طور پر تقریباً 5ہزار 900 جبکہ بابر جاوید نے 3ہزار سے زائد گندم کی بوریاں متعلقہ اتھارٹی کی پیشگی منظوری اور قانونی اجازت کے بغیر مختلف فلور ملوں کو منتقل کر ائیں۔ محکمانہ تحقیقات میں دونوں افسر وں کو قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سیزن کے دوران سرکاری گندم کی پکڑ دھکڑ ، گوداموں کو سیل کرنے اور گندم منتقل کرنے کے دوران محکمہ فوڈ کے علاوہ پیرا فورس افسر وں کے بھی مبینہ طور پر بھاری مالی لین دین اور لاکھوں روپے لینے کی شکایات سامنے آئیں لیکن تاحال اس پہلو پر مکمل تحقیقات نہیں کی گئیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ فوڈ نوشہرہ ورکاں میں تعینات بعض ملازمین مختصر عرصہ میں کروڑوں روپے کے اثاثے بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں جس سے بدعنوانی کے شبہات مزید مضبوط ہو گئے ہیں ۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری خوراک اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف برطرفی پر اکتفا کرنے کے بجائے سکینڈل میں ملوث تمام کرداروں، مالی بدعنوانی اور ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف بھی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں