ماحولیاتی آلودگی کے با عث جلدی امراض میں اضافہ
ایک ماہ کے دوران ہزاروں مریض ،سرکاری ہسپتالوں میں سنٹر قائم نہ ہوسکے
گوجرانوالہ(سٹی رپورٹر)گوجرانوالہ ڈویژن میں ماحولیاتی آلودگی اور مون سون کے پیش نظر جلدی امراض میں اضافہ ہوگیا، ڈی ایچ کیو ہسپتال سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ایک ماہ کے دوران ہزاروں مرد وخواتین اور بچے سکن امراض کی چیکنگ کیلئے آئے جہاں انہوں نے معائنہ کے ساتھ علاج بھی کر ایا جبکہ بیشتر مریض سکن سپیشلسٹ کی کمی کے باعث پرائیویٹ ہسپتالوں میں چیک اپ کر انے پر مجبور ہوگئے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں سپیشلسٹ کی کمی کے علاوہ سکن کے علاج کیلئے انفیکشن سنٹرز بھی قائم نہیں ہوسکے جس سے مرد وخواتین کی اکثریت سرکاری ہسپتالوں میں جلدی امراض کے علاج سے محرو م ہیں، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بھی جلدی امراض کے علاج کیلئے خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں، پنجاب حکومت نے چند سال قبل ضلعی سطح پر جلدی امراض کے علاج کیلئے انفکیشن سنٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اورگزشتہ دور حکومت میں مالی بجٹ میں بھی انفکیشن سنٹرز پراجیکٹ کیلئے مختص کررکھا تھا مگر فنڈز کی فراہمی نہ ہوسکی جس کے باعث ضلعی سطح پر انفکیشن سنٹروں کے قیام کا منصوبہ شروع نہ ہوسکا اور نہ ہی سکن سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکا جس کے باعث موسمی بیماریوں اور آلودگی کے باعث سکن سے متاثرہ مریض حکومتی سطح پر سہولیات سے محروم ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments