حافظ آباد:ادارہ نہ ہونے سے آٹزم کا شکار بچوں کو مشکلات

حافظ آباد:ادارہ نہ ہونے سے آٹزم کا شکار بچوں کو مشکلات

والدین اور شہریوں کا ڈی پی ایس کے مخصوص سیکشن کو دوبارہ فعال کرنے کا مطالبہ

حافظ آباد(نمائندہ دُنیا ، نامہ نگار )ضلع بھر میں آٹزم کا شکار بچوں کیلئے حکومتی اور نجی سطح پرتھیراپی کے ساتھ ساتھ تشخیص اور اسسمنٹ کا کوئی ادارہ موجودہ نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ بچے رل گئے جبکہ انکے والدین پریشانی میں مبتلاہوکر سسکیاں لینے لگے ۔تفصیلات کے مطابق اس وقت ضلع حافظ آباد میں آٹزم کی بیماری میں مبتلا بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن ضلع بھر میں کسی بھی جگہ پر ان بچوں کے لئے نہ تو کوئی طبی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی کوئی رہنمائی کا سسٹم موجود ہے جس کی وجہ سے متاثرہ بچوں کے ساتھ ساتھ انکے والدین شدید ذہنی اذیت اور کرب سے گزر رہے ہیں ۔کچھ عرصہ قبل ڈی پی ایس سکول میں آٹسٹک (autistic) بچوں کے لیے الگ سیکشن قائم کیا گیا تھا تاہم اسکول انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور ناقص حکمت عملی کے باعث وہ بھی کافی عرصے سے بند ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اب یہ بچے تعلیم سے بھی یکسر محروم چلے آرہے ہیں۔دوسری جانب ان متاثرہ بچوں کے لئے سپیشل ایجوکیشن سنٹر حافظ آباد میں میں بھی کوئی سہولت میسر نہیں ۔متاثرہ بچوں کے والدین نے وزیر اعلی مریم نواز شریف چیف سیکریٹری پنجاب اور مقامی ممبران اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹزم کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طورپرڈی پی ایس سکول کے مخصوص سیکشن کو دوبارہ فعال کیاجائے اور پنجاب بھر میں ضلعی لیول پر سرکاری آٹزم تشخیص،جائزہ اور تھیراپی سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...