پی ایم اے نے ینگ ڈاکٹرزکی برطرفی کو نا قابل قبول قرار دیدیا

پی ایم اے نے ینگ ڈاکٹرزکی برطرفی کو نا قابل قبول قرار دیدیا

حکومت کو معاملات حل کرنے کیلئے یکم نومبر تک مزید مہلت دیدی :صدر ڈاکٹر اظہار

گوجرانوالہ(سٹی رپورٹر)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام گجرات میں گرینڈ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ کنونشن میں طبی شعبے کو درپیش مسائل، حکومتی ٹیکس پالیسیوں، پنشن سسٹم، ہیلتھ کیئر کمیشن کے کردار، ڈاکٹروں کے تحفظ اور صحت عامہ سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صدر پی ایم اے پاکستان ڈاکٹر اظہار احمد چودھری نے کہا کہ ملکی حالات اور ڈاکٹروں کو درپیش مسائل کے پیشِ نظر حکومت کو معاملات حل کرنے کیلئے یکم نومبر تک مزید مہلت دی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت تک پیشرفت نہ ہونے کی صورت میں پی ایم اے ملک گیر احتجاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طب کا شعبہ محض کاروبار نہیں لیکن حکومتی پالیسیوں کے باعث طبی خدمات کو کاروباری سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے ہسپتالوں میں پوائنٹ آف سیل (POS) نظام کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے مریضوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے ۔صدر پی ایم اے پنجاب ڈاکٹر مقصود زاہد نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے 15 ینگ ڈاکٹروں کی برطرفی کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔کنونشن میں صدر پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن ڈاکٹر میاں زاہد محمود نے ڈاکٹروں کی تمام نمائندہ تنظیموں کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...