رسول نگرکی تاریخی بارہ دری حکومتی غفلت کے باعث تباہ

رسول  نگرکی  تاریخی  بارہ  دری  حکومتی  غفلت  کے  باعث  تباہ

تاریخی ورثے کوآئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کیلئے بارہ دری کا سروے کرواکر ماہرین کی نگرانی میں بحالی کا کام شروع کیا جائے :عوامی حلقے

جامکے چٹھہ (نامہ نگار) رسول نگر، ضلع وزیرآباد میں دریائے چناب کے کنارے واقع تاریخی عمارت بارہ دری طویل عرصے سے عدم توجہی اور حکومتی غفلت کے باعث تباہ ہو چکی ہے ۔تفصیلات کے مطابق رسول نگر شہر سے تقریباً دو کلومیٹر مشرق میں دریائے چناب کے کنارے واقع بارہ دری مبینہ طور پر سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1822ء کے لگ بھگ تعمیر کروائی تھی۔ اس عمارت کو بارہ دروازے ہونے کی وجہ سے بارہ دری کا نام دیا گیا تھا۔ دروازے اس انداز میں بنائے گئے تھے کہ عمارت میں چاروں اطراف سے داخل ہوا جا سکتا تھا۔ منفرد طرزِ تعمیر اور دریائے چناب کے دلکش قدرتی ماحول کے باعث یہ مقام تاریخی اور سیاحتی اہمیت رکھتا تھا۔مقامی روایات کے مطابق بارہ دری کے ساتھ تقریباً 25ایکڑ پر مشتمل پھلوں کے باغات اور 64 کنال اراضی پر چار دیواری بھی موجود تھی، جبکہ دریائے چناب تک اترنے اور شہر کی جانب آمدورفت کے لیے زیرِ زمین سرنگوں کی تعمیر کا ذکر بھی ملتا ہے ۔علاقہ مکینوں اور تاریخی ورثے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ بارہ دری جیسی قدیم عمارتیں ہماری تاریخ اور ثقافتی شناخت کی عکاس ہیں، مگر مناسب دیکھ بھال، مرمت اور سیاحتی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث یہ عمارت تباہ ہو گئی ہے اور اس کی تاریخی اہمیت بھی عوام کے سامنے اجاگر نہیں ہو سکی۔عوامی حلقوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بارہ دری رسول نگر کا تاریخی سروے کرایا جائے اور ماہرین کی نگرانی میں اس کی اصل ساخت کو محفوظ بنانے کیلئے بحالی کا کام شروع کیا جائے ۔ اسکے علاوہ صفائی، حفاظتی انتظامات، معلوماتی تختیوں اور سیاحوں کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ اس قیمتی تاریخی ورثے کو مزید تباہی سے بچا کر آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...