پہاڑوں کے دامن میں بری امام سرکار کی چلہ گاہ\"لوئے دندی\"زائرین کی توجہ کا مرکز
عرس پر2005سے پابندی ، چلہ گاہ پر شاہ عبد اللطیف نے350برس قبل چلہ کشی کی ،دشوا ر گزار راستے کے باوجود عقیدت مندوں میںاضافہ
لوئے دندی پہنچنے سے قبل راستے میں پری پتھر، سنڈا پتھر ، سانپ پتھر ، جن پتھر کی شبیہا ت ہیں ،چلہ گاہ سرکار کی تاریخی نشانی ہے لنگر خانہ گزشتہ تیس برس سے24گھنٹے چل رہا ہے ، اخراجات مقامی بزرگ سائیں سعید اٹھا رہے ہیں ، چائے و قہوہ کا انتظام بھی ہے اسلام آباد (ماہتاب بشیر /تصاویر : احسن بٹ) حضرت شاہ عبد اللطیف کاظمی المعروف بری امام سرکار کے عرس کی تقریبات2005 سے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر منعقد نہیں کی جا رہیں تاہم ان کے مزار واقع نو ر پور شاہاں (بری امام ) اور چلہ گاہ (لوئے دندی) کے مقام پر آنے والے عقیدت مندوں اور زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ عقیدت مند پہاڑوں کے دامن میں واقع مزار سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ان کی چلہ گاہ (لوئے دندی ) پر حاضرہوتے ہیں اور چلہ گاہ کی زیارت کرتے ہیں جہاں حضرت بری امام نے 350برس قبل چلہ کشی کی ، یہاں پہنچنے سے قبل ڈھائی کلو میٹر کے فاصلے پر پری پتھر، سنڈا پتھر ، سانپ پتھر اور جن پتھر کی شبیہا ت موجود ہیں۔ یہ چلہ گاہ سرکار کی نشانیوں میں سے ایک تاریخی نشانی ہے ۔ چلہ گاہ پر مقامی افراد نے روز نامہ دنیا کو بتایا کہ عام دنوں میں لوئے دندنی آنے والوں کی تعداد روزانہ ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار ہے جبکہ جمعہ اور اتوار کو یہی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے ، لنگر خانے کے انچارج دین محمد نے بتایا کہ لنگر خانہ گزشتہ تیس برس سے چو بیس گھنٹے چل رہا ہے ، اس کے اخراجات مقامی بزرگ سائیں سعید اٹھا رہے ہیں ۔ چائے و قہوہ کا بھی انتظام ہے ، لنگر خانہ کے ساتھ زائرین کے لئے پانی کی سبیل لگائی گئی ہے جس پر لڈو سائیں ڈیوٹی دیتے ہیں۔