بینظیر نشوونما پروگرام، بچوں میں سٹنٹنگ میں نمایاں کمی

بینظیر نشوونما پروگرام، بچوں میں سٹنٹنگ میں نمایاں کمی

خواتین بینیفشریز کے بچوں میں غذائی کمی کی شرح میں 22فیصد تک کمی، تحقیق

اسلام آباد (دنیا رپورٹ) بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت پاکستان میں بچوں میں سٹنٹنگ میں نمایاں کمی، آغا خان یونیورسٹی کی آزادانہ تحقیق کے مطابق خواتین بینیفشریز کے بچوں میں غذائی کمی کی شرح میں 22فیصد تک کمی، پاکستان نے بچوں میں غذائی کمی کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ تحقیق کے مطابق پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک غذائی کمی کی شرح 22فیصد جبکہ ایک سال کی عمر تک 18فیصد کم دیکھی گئی۔ اسی طرح کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں میں 6فیصد کمی، قبل از وقت پیدائش میں 11فیصد کمی اور کمزور و نازک نومولود بچوں میں 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ نتائج بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ بینظیر نشوونما پروگرام کے جائزہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران شاہ نے ان نتائج کو پاکستان کے سماجی تحفظ کے شعبے کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹرروبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام ان کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ صحت مند ماں اور صحت مند بچے ہی ایک مضبوط اور خوشحال قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں