پارلیمنٹ میں بجٹ تیاریاں شروع، 28ویں ترمیم کی بھی بازگشت
بجٹ سیشن میں چائے ، بسکٹ اور محدود ناشتے تک سرکاری انتظام برقرار رہے گا اقتصادی ٹیم متحرک، ارکان پارلیمنٹ سے بجٹ تجاویز جلد طلب کیے جانے کا امکان
اسلام آباد (سہیل خان)پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی بجٹ 2026-27کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا۔ معاشی ٹیم کے چیمبرز اور سیلز کی صفائی ستھرائی شروع کردی گئی ۔ یہ سیلز ارکانِ پارلیمنٹ کی سہولت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔کفایت شعاری مہم کے باعث بجٹ سیشن کے دوران ارکان کی خاطر مدارت محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ فی الحال ون ڈش، چائے اور سادہ بسکٹ تک سرکاری انتظام محدود رہنے کا امکان ہے جبکہ ناشتے کے آئٹمز بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔پارلیمانی جماعتوں میں تاحال بجٹ کے حوالے سے کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پارلیمانی راہداریوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی بیانات کا ماحول زیادہ گرم ہے ۔سرکاری چیمبرز کو اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ اقتصادی ٹیم بجٹ تیاری میں مصروف ہے اور جلد ارکانِ پارلیمنٹ سے تجاویز طلب کیے جانے کا امکان ہے ۔بجٹ سے قبل 28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت بھی جاری ہے ۔ بعض حلقے اسے بجٹ سے متعلق دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ مجوزہ ترمیم میں انتظامی یونٹس، صوبائی خودمختاری، معدنیات، قدرتی وسائل اور بعض وزارتوں کے اختیارات سے متعلق امور شامل ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم سیاسی اتفاقِ رائے بڑا چیلنج ہوگا۔