4سال میں جبری مذہب تبدیلی،کم عمری شادی کے 421کیس رپورٹ
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)قانونی ماہرین، سینئر صحافیوں اور مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں نے مبینہ جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں سے متعلق مقدمات میں بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔
یہ مطالبہ پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے زیر اہتمام میڈیا بریفنگ میں کیا گیا۔ چیئرمین پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق اور رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ اقلیتوں کو درپیش مسائل میں تعلیم کی کمی اور غربت اہم عوامل ہیں۔ شرکا نے بتایا کہ 2021 سے 2024 کے دوران جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادی کے 421 کیسز رپورٹ ہوئے ، جن میں 71 فیصد متاثرین نابالغ تھے جبکہ تقریباً 80 فیصد کیسز سندھ سے سامنے آئے۔