\"وفاقی حکومت\" کی جگہ \"وزیراعظم\" کا لفظ ،قائمہ کمیٹی میں بل منظور

\

وفاقی وزارت قومی ورثہ کو تمام وزارتوں میں سب سے کم بجٹ دیا جاتا ہے ،کمیٹی میں انکشاف سینیٹ قائمہ کمیٹی قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس ،ارکان کا وزارت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) سینیٹ قائمہ کمیٹی قومی ورثہ و ثقافت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی وزارت قومی ورثہ کو تمام وزارتوں میں سب سے کم بجٹ دیا جاتا ہے جبکہ صوبوں کے ساتھ اب تک کوئی باقاعدہ قانونی فریم ورک موجود نہیں جبکہ ممبران نے وزارت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے غیر تسلی بخش قرار دیاہے ۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ خان کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز بشریٰ انجم بٹ، روبینہ خالد، سید وقار مہدی، شہادت اعوان سمیت اورنگزیب خان کھچی اور وزارت کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں قومی انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) (ترمیمی) بل 2026 پر غور کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ ترامیم آرڈیننس 2022 کے بعض دفعات سے متعلق ہیں، جن میں مختلف سیکشنز میں \"وفاقی حکومت\" کی جگہ \"وزیراعظم\" کا لفظ لگانا شامل ہے ۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے ان تبدیلیوں کی وجوہات پر استفسار کیا تو کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ ترامیم سپریم کورٹ کی ہدایات کے پیش نظر تجویز کی گئی ہیں۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اجلاس میں اسٹارڈ سوال نمبر 64 پر غور کیا گیا جس کا تعلق ورثہ کی جگہوں کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک اور تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور ثقافتی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کے خلاف قوانین کے نفاذ کے اقدامات سے تھا۔اس دوران سینیٹر شہادت اعوان نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کے ساتھ وزارت کے رابطوں کی تفصیلات طلب کیں۔ چیئرمین نے ایجنڈا آئٹم ملتوی کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ اگلے اجلاس میں اٹھائے گئے تمام مسائل پر مکمل تفصیلات اور جامع بریفنگ کے ساتھ پیش ہو۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں