لوگ بیٹیوں کی شادی کیلئے رکھا سونا بیچ کر بجلی بل جمع کروانے پر مجبور:پی اے سی

لوگ بیٹیوں کی شادی کیلئے رکھا سونا بیچ کر بجلی بل جمع کروانے پر مجبور:پی اے سی

ایک ماہ میں 904 ملین یونٹس کی اوور بلنگ پکڑی گئی، معلوم نہیں ہر ماہ کتنے مزید صارفین اس کا شکار بنتے ہیں جس شخص کی ماہانہ آمدن صرف بیس ہزار ہو، اسے ایک لاکھ روپے کا بل دینگے تو وہ بجلی چوری کریگا:کمیٹی ارکاناوور بلنگ کی رقم صرف شکایت درج کرانے والے صارف کو واپس کی جاتی ہے : آڈٹ حکام ، کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد (اے پی پی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس شاہدہ بیگم کی زیرصدارت ہوا جس میں پاور ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 کا جائزہ لیا گیا۔پی اے سی ارکان نے کہا کہ ایک ماہ میں 904 ملین یونٹس کی اوور بلنگ سامنے آئی۔ اگر یہ اوور بلنگ پکڑی گئی تو معلوم نہیں ہر ماہ کتنے صارفین اس کا شکار ہوتے ہوں گے ۔ کم آمدنی والے صارفین کو لاکھوں روپے کے بل بھیجے جاتے ہیں، حتیٰ کہ لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے رکھا سونا فروخت کرکے بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ اوور بلنگ کی رقم صرف ان صارفین کو واپس کی جاتی ہے جو شکایت درج کراتے ہیں۔ لوئر سٹاف بجلی چوری اور لائن لاسز چھپانے کے لیے اوور بلنگ کرتا ہے ۔اجلاس کے آغاز پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ذیلی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں اداروں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران شریک نہیں ہوتے ۔ اس پر چیئرپرسن شاہدہ بیگم نے ہدایت کی کہ آئندہ پی اے سی یا ذیلی

کمیٹیوں کے اجلاس پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کی عدم موجودگی میں نہیں ہوں گے ۔ کمیٹی نے اس معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا۔پاور ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی نے ترقیاتی بجٹ کے 1.2 ارب روپے لیپس ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کمزور مالی نظم و نسق قرار دیا۔ کمیٹی نے ڈیرہ بگٹی کو بجلی کی فراہمی کے منصوبے کے لیے فنڈز جاری نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بیس سال سے سمارٹ میٹرز لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ آئیسکو میں دس لاکھ سمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔ سی ای او لیسکو نے کہا کہ لیسکو میں اوور بلنگ صفر ہو چکی ہے ، رینجرز کی مدد سے بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں اور پہلی مرتبہ ایک ایکسین اور سات ایس ڈی اوز کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ سیکرٹری پاور ڈویژن کے مطابق لیسکو کے لائن لاسز دو سال قبل 80 ارب روپے تھے جو گزشتہ سال کم ہو کر 20 ارب روپے رہ گئے ۔ سی ای او لیسکو نے بتایا کہ ایسے بجلی چور بھی پکڑے گئے جو ایک ڈیوائس کے ذریعے میٹر کو سلیپ موڈ میں لے جاتے تھے ۔آڈٹ رپورٹ میں حیسکو میں گھوسٹ اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں ایک ارب چھ کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی ہواجس میں ڈی ڈی او، ایکسین اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سامنے آئی۔ سی ای او حیسکو نے بتایا کہ چار ملازمین برطرف کیے جا چکے ہیں جبکہ ایف آئی اے نے پانچ مقدمات درج کیے ہیں۔ حکام کے مطابق کیس میں 130 سے زائد افراد ملوث ہیں اور اب تک 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی جا چکی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...