بھٹومیڈکل یونیورسٹی کے افسر ترقی نہ ملنے پرعدالت چلے گئے
یونیورسٹی کی مختلف اسامیوں پر مخصوص افسران کو ترقی دینے کی کوشش کی جا رہی یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق بورڈ میں مختلف اداروں کی نمائندگی لازمی ہے :افسران
اسلام آباد (ایس ایم زمان ) شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے افسران نے ترقی کے لیے زیر غور نہ لانے پر ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی ہے ، ،افسران کے مطابق یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق بورڈ کی تشکیل نہیں کی گئی اور من پسند افسران کو ترقی دینے کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے ، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے گریڈ 19 ،18 میں ترقی کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ اور اہل افسران کو ترقی کے لیے زیر غور لانے کی بجائے مخصوص افسران کو ترقی کے لیے کیس تیار کیے گئے ہیں۔
افسران کے مطابق ،یونیورسٹی کی گریڈ 19 اور 18 کی مختلف اسامیوں پر مخصوص افسران کو ترقی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ، افسران کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے ترقی کے لیے منتظر افسران کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، افسران کے مطابق یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق بورڈ میں مختلف اداروں کی نمائندگی لازمی ہے ، افسران نے اس حوالے سے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں کیس دائر کر دیا ہے ، وائس چانسلر شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر تنویر خالق نے دنیا کی جانب سے ترقی بورڈ کی تشکیل اور ممبران کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا جواب رجسٹرار افس دے گا، یونیورسٹی کے ترجمان اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غضنفر نے دنیا کے سوال کے جواب میں کہا کہ مجاز حکام کی جانب سے سوال کے جواب کا انتظار ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments