خواتین کے تحفظ ،تشدد کی روک تھام ،تحقیق کے خلاصہ کے نتائج جاری
صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے صرف مؤثر قانون سازی کافی نہیں ،ڈاکٹر شاہدہ رحمانی
اسلام آباد(نامہ نگار) قومی اسمبلی پاکستان کی خواتین کی پارلیمانی کاکس نے سیف گارڈنگ ریسورس اینڈ سپورٹ ہب پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں تحفظ اور صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت سے متعلق تحقیق کے خلاصہ نتائج جاری کر دیئے ۔تقریب میں ارکانِ پارلیمنٹ، تحفظ کے شعبے سے وابستہ ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں، صنفی مساوات کے ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے جائزہ لیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور متاثرین کو معاونت فراہم کرنے ، نیز جنسی استحصال، بدسلوکی اور ہراسانی کی روک تھام کے لیے مالی وسائل کو ادارہ جاتی اور عوامی مالیاتی نظام میں کس حد تک نمایاں کیا جاتا ہے۔ خواتین کی پارلیمانی کاکس کی سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی پارلیمانی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے صرف مؤثر قانون سازی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے ادارہ جاتی عزم، مناسب مالی وسائل اور جواب دہی کے ایسے نظام بھی ضروری ہیں جو پالیسیوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی پارلیمانی کاکس صنفی حساس پالیسی سازی کو فروغ دینے اور پارلیمانی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ تشدد کی روک تھام اور خواتین کا تحفظ اہم قومی ترجیحات میں شامل رہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments