نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت کی جانب سےجاری نیب ترمیمی آرڈیننس کامعاملہ
  • بریکنگ :- نیب ترمیمی آرڈیننس چیلنج کرنےکی درخواست سماعت کیلئےمقرر
  • بریکنگ :- چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ اطہرمن اللہ کل سماعت کریں گے
  • بریکنگ :- درخواست میں وفاقی حکومت،چیئرمین نیب سمیت دیگرکوفریق بنایاگیا
  • بریکنگ :- 8اکتوبر2021کووفاقی حکومت نےآرڈیننس جاری کیا،درخواست
  • بریکنگ :- ریٹائرڈججزکی دوبارہ تعیناتی آزادعدلیہ کےخلاف ہے،درخواست
  • بریکنگ :- درخواست میں سپریم کورٹ کےمختلف فیصلوں کاحوالہ دیاگیا
  • بریکنگ :- عدالت نیب آرڈیننس کوکالعدم قراردے،درخواست میں استدعا
Coronavirus Updates

ناقص تفتیشی نظام کو بہتر کرنے کیلئے کراچی پولیس کا بڑا فیصلہ

ناقص تفتیشی نظام کو بہتر کرنے کیلئے کراچی پولیس کا بڑا فیصلہ

دنیا اخبار

ناقص تفتیشی نظام کو بہتر کرنے کے لئے کراچی پولیس کا بڑا فیصلہ،پولیس چیف کی ہدایت پر تفتیشی نظام کا ازسر نو جائزہ لینے کا عمل مکمل ہوگیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایک ڈی آئی جی اور دو ایس ایس پیز نے تفتیشی نظام پر تفصیلی رپورٹ مرتب کی۔ پولیس کے ایک افسر پر اوسطاً 55 مقدمات کی تفتیش پر مامور ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کروڑوں کی آبادی والے شہر میں محکمہ پولیس کے تفتیشی افسران کی تعداد ایک ہزار بھی نہیں، شہر میں سالانہ درج مقدمات کی شرح50 ہزار سے زائد ، تفتیشی افسران 985 ہیں۔ پولیس کے تفتیشی نظام کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے نفری میں فی الفور اضافے کی تجویز دی ہے جبکہ شہر بھر میں مقدمات کی تفتیش کے لئے 3ہزار 476افسران کی ضرورت ہے۔ شعبہ تفتیش میں کانسٹیبل سے ڈی ایس پی رینک تک افسران واہلکاروں کی موجودہ تعداد 3 ہزار 469 ہے۔ پولیس کے شعبہ تفتیش میں عملے کے تعداد 6 ہزار 4 سو 59 ہونی چاہیے۔ پولیس کی انویسٹی گیشن برانچز میں موجودہ اور مجوزہ عملے کے تعداد میں 2990 کا فرق ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں