سندھ ہائیکورٹ:سپرہائی وے پر تجاوزات ختم کرنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ:سپرہائی وے پر تجاوزات ختم کرنے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں سپرہائی وے ، سہراب گوٹھ سے ٹول پلازہ تک تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے کیس کی سماعت کے دوران حکم کے باوجود قبضہ ختم نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو سپر ہائی وے پر ایک ہفتہ میں تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا ۔

عدالت نے کہا کہ پہلے مرحلے میں الآصف اسکوائر کے اطراف میں قبضہ ختم کرنے کے لیے آپریشن کریں۔عدالت نے ایف ڈبلیو او، این ایچ اے ، رینجرز ، پولیس اور دیگر اداروں کو انتظامیہ سے مکمل تعاون کی ہدایت کی۔عدالت نے اداروں کو تنبیہ کی کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نا ہوا کسی بھی نتیجے کیلئے تیار رہیں ، قبضہ ختم ہونے پر این ایچ اے جگہ اپنی تحویل میں لے کر بیوٹیفکیشن کا کام کرے ۔جسٹس ندیم اختر نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ کچھ کرنا ہے تو کرکے دکھائیں ایسا نا ہو بچا کچھا شہر بھی ختم ہوجائے ،  ایم 9 موٹر وے 6 لائن ہے دو لائن چھوڑ کر باقی سب پر بھی قبضہ ہوچکا ہے ،کتنی بدقسمتی ہے گرین بیلٹ اور سروس روڈ پر قبضہ کیا ہوا ہے ، ذمہ داری ادا کرنا دور کی بات یہاں تو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔

اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیف سیکریٹری نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا دی ہے ،جس پر جسٹس ندیم اختر  نے کہا کہ ہمارے سامنے روز یہ تماشے ہوتے ہیں کمیٹیاں بنتی رہتی ہیں ، کمیٹیوں کے تماشے نا کریں ، آپ اپنا ارادہ ہمیں بتادیں تجاوزات ہٹائیں گے یا نہیں ؟،آپ اپنا ارادہ واضح کردیں پھر کورٹ کو جو کرنا ہوگا کرے گی ۔جسٹس عبدالرحمان نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آپ کی ذمہ داری کیلئے بھی عدالت بار بار کہے گی ؟ ۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ سے استفسار کیا کہ ڈی سی صاحب کتنا وقت لگے گا تجاوزات کا مکمل خاتمہ کرنے کیلئے ؟جس پر انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ درکار ہے مگر بنیادی مسئلہ انہیں دوبارہ بیٹھنے سے روکنا ہے ۔جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ سوچنے کی بات ہے قابضین شہرمیں قبضہ کہوں کرتے ہیں؟ قبضہ کرنے والوں کو یقین ہوتا ہے انہیں کوئی ہٹانے نہیں آے گا اسلئے لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں ،ہمیں قبضہ کرنے والوں میں یہ خوف پیدا کرنا ہے کہ کارروائی ہوگی ، دل سے تجاوزات کے خلاف کارروائی کریں گے تو دوبارہ قبضہ کرنے کوئی نہیں آئے گا۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں