مذہب تبدیلی،درخواست گزار کو نیا شناختی کارڈ دینے کاحکم
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے مذہب کی تبدیلی کے بعد نئے نام کے ساتھ شناختی کارڈ کے اجراء سے متعلق درخواست پر نادرا کو ایک ماہ کے اندر نئے نام سے شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔
بدھ کے روز سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے 2018 میں عیسائیت قبول کی تھی اور اب وہ اپنے نئے مذہب کے مطابق شناختی کارڈ بنوانا چاہتے ہیں۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نادرا کی جانب سے ریکارڈ میں نام اور مذہب کی تبدیلی کے لیے عدالتی حکم کی شرط غیر قانونی ہے ۔ دوسری جانب نادرا کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ادارہ 1973 کے آئین کے مطابق کام کرتا ہے اور اس کے تحت اسلامی قوانین پر عملدرآمد لازم ہے ۔ نادرا کی پالیسی میں صرف دیگر مذاہب سے اسلام قبول کرنے والوں کے لیے طریقہ کار موجود ہے لیکن اسلام چھوڑ کر کسی اور مذہب اختیار کرنے والوں کے لیے کوئی واضح قانون یا پالیسی دستیاب نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہری کی مرضی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اپنائے ۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت کی کہ وہ پہلے دیے گئے عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر درخواست گزار کو نئے نام ناصر مسیح کے نام سے شناختی کارڈ جاری کرے ۔ درخواست میں وزارت داخلہ، چیئرمین نادرا، ریجنل ڈائریکٹر نادرا اور سیمنز چورنگی میگا سینٹر کو فریق بنایا گیا تھا۔