بجلی بلوں میں 264 کروڑ روپے کے ٹیکس جمع

بجلی بلوں میں 264 کروڑ روپے کے ٹیکس جمع

نیپرا بھی کے الیکٹرک کی جانب سے ٹیکس وصولی کوغیرقانونی قرار دے چکا ایم یو سی ٹی چارجز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی خلاف ورزی ،درخواست گزار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں کے ذریعے میونسپل ٹیکس کی وصولی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ موسمِ سرما کی تعطیلات کے دوران اس درخواست کی سماعت کیوں ضروری ہے ۔ وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سماعت کی تاریخ عدالت کی جانب سے دی گئی تھی۔عدالت نے فریقین کے موقف سننے کے بعد درخواست کی سماعت موسمِ سرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 14 جنوری تک مقرر کردی۔سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسز کی مد میں اب تک 264 کروڑ روپے جمع ہوچکے ہیں۔ وکیل کے مطابق لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت صرف سرکاری ادارے ہی ٹیکس وصول کرسکتے ہیں۔

جبکہ قانون کے مطابق کوئی تیسرا فریق ریونیو جمع کرنے کا مجاز نہیں ہے ۔طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ایم یو سی ٹی چارجز کا نفاذ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کی صریح خلاف ورزی ہے ، جبکہ نیپرا بھی کے الیکٹرک کی جانب سے کے ایم سی ٹیکس وصولی کو خلافِ قانون قرار دے چکا ہے ۔ میئر کراچی عدالت کے 29 مئی 2024 کے احکامات کی بھی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ عدالت کے حکم کے مطابق یوٹیلیٹی ٹیکس کی کے الیکٹرک کے ذریعے وصولی پر تفصیلی بحث ضروری تھی، تاہم میئر کراچی نے نہ تو اس معاملے پر کمیٹیوں کو بریف کیا اور نہ ہی ایوان میں بحث کا موقع دیا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں