گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران ختم نہ ہوسکا
تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خطرات پیدا ہوگئےفلور ملوں کو گندم کی ترسیل میں تاخیر نے آٹا مزید مہنگا کردیا،عبدالجنید
کراچی(آئی این پی)کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران ختم نہ ہوسکا ہے ، فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے جسے نئی گندم کے ساتھ مکس کرکے جو آٹا تیار کیا جارہا ہے وہ بلحاظ قیمت عوام کی دسترس سے باہر ہے ۔ سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو گندم کی ترسیل میں تاخیر نے کراچی میں آٹے کو مزید مہنگا کرگیا ہے ۔کراچی کی تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ۔ سندھ حکومت سے ملنے والی تین سال کی پرانی گندم غذائیت نہیں رکھتی ہے ، سرکاری گندم کو غذائیت کے قابل بنانے کیلئے نئی گندم کی ملاوٹ کی جارہی جس سے پیداواری لاگت اور قیمت میں اضافہ ہورہا ہے ۔کراچی کی فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل بروقت نہ ہونے سے متعلق تفصیلات سے بھی کمشنر کراچی کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
عبدالجنید کے مطابق فلور ملوں کو گندم کی بروقت ترسیل کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی اہم ملاقات ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری گندم وقت پر نہ ملنے سے بھی آٹے کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، پرانی سرکاری گندم کے نرخ 80روپے فی کلوگرام اور اس میں شامل کی جانے والی نئی گندم کی قیمت 110روپے فی کلوگرام ہے لہذا تھوک مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی سستی نہیں ہوسکتی جبکہ ریٹ کا تعین خود ساختہ ہوتا ہے ۔دوسری جانب سے ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین روف ابراہیم کے مطابق کراچی میں فائن آٹے کی قیمت بڑھ کر 145روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔