غیر قانونی بل بورڈز پر متعلقہ فریقین کو پھر نوٹس
طلب کی جانے والی پیش رفت رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت کی برہمی بل بورڈز کسی بھی وقت جان و مال کے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں،درخواستگزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہر بھر میں رہائشی عمارتوں اور دیگر مقامات پر غیر قانونی بل بورڈز لگانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران کے ایم سی سمیت متعلقہ فریقین کو ایک مرتبہ پھر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 22 فروری تک ملتوی کر دی۔عدالت میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ الطاف شکور کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر گھروں کی چھتوں، دیواروں اور دیگر غیر محفوظ مقامات پر غیر قانونی بل بورڈز نصب کیے گئے ہیں، جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ گزشتہ سماعت پر طلب کی جانے والی پیش رفت رپورٹ حکام کی جانب سے پیش نہیں کی جا سکی۔ اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے ایم سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو دوبارہ نوٹس جاری کیے اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر رپورٹ ہر صورت پیش کی جائے ۔ وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بل بورڈز سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کا واضح اور حتمی فیصلہ موجود ہے ، جس کے باوجود شہر بھر میں اس فیصلے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ وکیل کے مطابق ایسے مقامات پر غیر قانونی بل بورڈز لگائے گئے ہیں جو کسی بھی طرح محفوظ نہیں اور کسی بھی وقت جان و مال کے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔