سکھر:این سی سی آئی دفتر پر عدالتی چھاپہ، بیگناہ نوجوان بازیاب

سکھر:این سی سی آئی دفتر پر عدالتی چھاپہ، بیگناہ نوجوان بازیاب

دوسرا لاپتا،عدالت کا حراست میں لیے گئے دوسرے نوجوان کو فوری رہا کرنے کا حکممنصور،ظاہر کو مبینہ طور پر آن لائن فراڈ کے الزام میں دفتر بلا کر حراست میں لیا گیا

سکھر (بیورو رپورٹ) سکھر میں این سی سی آئی (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن) کے دفتر پر عدالتی چھاپے کے دوران پنوعاقل سے تعلق رکھنے والے ایک بیگناہ نوجوان کو بازیاب کرا لیا گیا، جبکہ دوسرا تاحال لاپتا ہے ۔ کارروائی ایڈووکیٹ ہدایت اللہ سومرو کی درخواست پر عمل میں لائی گئی۔ ایڈووکیٹ ہدایت اللہ سومرو کے مطابق متاثرہ خاندان نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ دو روز قبل این سی سی آئی سکھر کی ٹیم نے نوٹس جاری کر کے منصور بھٹو اور ظاہر انڈھڑ کو دفتر طلب کیا۔ دونوں نوجوان جیسے ہی دفتر پہنچے انہیں حراست میں لے لیا گیا، جسے ورثا نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔

درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے این سی سی آئی کے دفتر پر چھاپہ مارا، جہاں سے ایک نوجوان منصور بھٹو کو بازیاب کرالیا گیا، تاہم دوسرا نوجوان ظاہر انڈھڑ مبینہ طور پر غائب پایا گیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ حراست میں لیے گئے نوجوان کو فوری طور پر رہا کیا جائے ، جبکہ این سی سی آئی کے متعلقہ عملے کو دو روز بعد مکمل ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہونے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ دونوں نوجوان پنوعاقل میں ایزی لوڈ کا کام کرتے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر آن لائن فراڈ کے الزام میں دفتر بلا کر حراست میں لیا گیا تھا۔ بازیاب نوجوان منصور نے الزام عائد کیا کہ این سی سی آئی کے انسپکٹرز نے اس سے 30 ہزار روپے رشوت وصول کی، جبکہ دفتر کے ریڈر نے 20 ہزار روپے اپنے بینک اکائونٹ میں منگوائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں