جامشورو:کپڑے بیچنے والی خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد

جامشورو:کپڑے بیچنے والی خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد

تھرمل پاور ہاؤس کے قریب ملی، ورثا کا پولیس کیخلاف احتجاج، مقدمہ درجصبرین حاملہ، کپڑے لیکر کوئٹہ سے آئی، میت آبائی علاقے لسبیلہ روانہ کردی گئی

جامشورو (نمائندہ دنیا)جامشورو کے پہاڑی علاقے گاؤں محمد کھوسہ میں کپڑے بیچنے جانیوالی خاتون کی تشدد زدہ لاش تھرمل پاور ہائوس کے قریب سے ملی، جسے پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جامشورو کے پہاڑی علاقے گاؤں محمد کھوسہ میں کوئٹہ سے کپڑے بیچنے کے لئے آنے والی حاملہ عورت تین بچوں کی ماں صبرین (صبرو) پٹھان کی تشددزدہ لاش تھرمل پاور ہائوس کے قریب سے برآمد ہوئی، پولیس نے لاش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی، جس کے بعد لاش کو اپنے آبائی گاؤں لسبیلہ روانہ کردیا گیا، مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ صبرین کے غائب ہونے کے فوری بعد ہم نے جامشورو اے سیکشن تھانے پر ابتدائی رپورٹ درج کروائی، پولیس کی سستی کے باعث ہماری بچی ہم سے بچھڑ گئی، پولیس کو ہم اس گاؤں میں لے کر گئے ، جہاں سے ہماری بیٹی غائب ہوئی، وہاں سے شک کی بنیاد پر بھی کچھ لوگ حراست میں لئے گئے جن کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا جوکہ اب گاؤں سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔ پولیس کی جانب قتل ہونے سے پہلے تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جبکہ شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے افراد کو بھی رہا کردیا گیا تھا۔ ورثاء کی جانب سے احتجاج کے بعد تھانہ اے سیکشن جامشورو میں شوہر بابر علی پٹھان کی مدعیت میں 5 معلوم ملزمان معشوق، دادن، رانو، جانی، نورو کھوسو اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں