سول سے مریضوں کی نجی اسپتالوں میں منتقلی کا انکشاف

سول سے مریضوں کی نجی اسپتالوں میں منتقلی کا انکشاف

پرائیوٹ نرسنگ اسکولوں کے طلبہ، وارڈ بوائزاور شعبہ ایمرجنسی کا عملہ ملوثنجی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے عوض باقاعدہ کمیشن وصول کیا جاتا ہے ،ذرائع

کراچی (این این آئی) سول اسپتال کراچی کے شعبہ ایمرجنسی سے مریضوں کو مبینہ طور پر نجی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ، جس نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس دھندے میں پرائیویٹ نرسنگ اسکولوں کے طلبہ، وارڈ بوائز، پرائیوٹ ایمبولینس ڈرائیورز، نائٹ سکیورٹی سپر وائزر اور دیگر عملہ ملوث ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ سرجری، آرتھوپیڈک، میڈیسن اور آئی سی یو کے مریضوں کو بیڈز کی عدم دستیابی کا جواز پیش کرکے نجی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔نجی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے عوض باقاعدہ کمیشن وصول کیا جاتا ہے ۔ ذرائع کا دعوی ہے نائٹ شفٹ میں تعینات وارڈ بوائے اسلم اور ساجد کھلے عام مریضوں کی منتقلی میں سرگرم ہیں اور مریضوں کے لواحقین کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے نجی علاج پر آمادہ کیا جاتا ہے ۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں انہیں سرکاری سہولیات کے بجائے نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ، جس سے ان پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے ۔محکمہ صحت سندھ کے اعلی حکام نے معاملے کا نوٹس لینے اور تحقیقات کا عندیہ دیا ہے ۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اس حوالے سے میڈیکل سپرنٹڈنٹ سول اسپتال ڈاکٹر خالد بخاری سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئیں مگر وہ دستیاب نہ تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں