سی آئی اے سینٹر 6 افراد کی بازیابی : آئی جی کو ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت
چھاپے کی ویڈیو وائرل ہونے کے باوجود متعلقہ ایس ایچ او تاحال اپنے عہدے پر تعینات ہے ،عدالت کی نشاندہی متعلقہ افسر کو فوری معطل اورسات روز کے اندر تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ،آئی جی کو خط ارسال
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے سی آئی اے سینٹر پر چھاپے کے دوران چھ افراد کی بازیابی کے معاملے پر آئی جی سندھ کو خط لکھتے ہوئے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔ عدالت کی جانب سے ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے سینٹر پر چھاپے کے دوران چھ افراد کو بازیاب کیا گیا جنہیں کسی بھی قانونی انٹری کے بغیر حراست میں رکھا گیا تھا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ چھاپے کی ویڈیو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود متعلقہ ایس ایچ او تاحال اپنے عہدے پر تعینات ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف نہ تو معطلی کی کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی محکمانہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ عدالت نے مزید لکھا کہ متعلقہ ایس ایس پی یا دیگر حکام کی جانب سے بھی ایس ایچ او کے خلاف کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔
عدالت نے اپنے خط میں کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اعلیٰ افسران بھی ایس ایچ او کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے آگاہ ہیں جبکہ یہ تاثر بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایس ایچ او مبینہ طور پر ایس آئی یو کے ایس ایس پی کی سرپرستی میں غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے ۔ عدالت نے یاد دہانی کرائی کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کے برعکس قانون کو ہاتھ میں لینا سنگین بدعنوانی کے مترادف ہے اور ایسے اقدامات ریاستی قوانین کی توہین شمار ہوتے ہیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے ، متعلقہ افسر کو فوری معطل کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی شروع کی جائے ۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے سات روز کے اندر تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔