پراسیکیوشن سروس میں سروس اسٹرکچر اور ترقی کے مواقع سے متعلق فیصلہ کی ہدایت

  پراسیکیوشن سروس میں سروس اسٹرکچر اور ترقی کے مواقع سے متعلق فیصلہ کی ہدایت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز کی ٹائم اسکیل پر ترقی سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے حکام کو پراسیکیوشن سروس میں سروس اسٹرکچر اور ترقی کے مواقع سے متعلق فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔

درخواست گزار جاوید اختر کھچی کے وکیل نے مؤقف دیا کہ ان کے موکل کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گریڈ 19 میں تعینات کیا گیا تاہم سروس اسٹرکچر نہ ہونے کے باعث 17 برس سروس کے باوجود انہیں گریڈ 20 میں ترقی نہیں دی جارہی جبکہ ڈسٹرکٹ اٹارنیز کو عدالتی احکامات کے بعد ٹائم اسکیل پر ترقی دی جاچکی ہے ۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی قسم کی ٹائم اسکیل ترقی کے لیے قواعد میں ترمیم ضروری ہوگی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار 17 سال سے زائد عرصے سے بغیر ترقی کے خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ متعلقہ قواعد کے تحت ترقی کے اہل ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ یکساں نوعیت کے کام کرنے والے افسران کے ساتھ مختلف سلوک آئینی خلاف ورزی ہے ۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئینی حقوق اور عدالتی فیصلوں کے مطابق حکومت پر لازم ہے کہ وہ قواعد کو ہم آہنگ کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں