رفاہی پلاٹ رہائشی میں تبدیل کرنے پر ہائیکورٹ حیران

رفاہی پلاٹ رہائشی میں تبدیل کرنے پر ہائیکورٹ حیران

ایف بی ایریا رحمان آباد میں کھیل کا میدان رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق درخواست پر سیکریٹری ہیومن سیٹلمنٹ ذاتی حیثیت میں طلب پولیس ریکارڈ سے نام خارج کرنے کی درخواست پر عدالت نے ریکارڈ کو اپڈیٹ حالت میں برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں فیڈرل بی ایریا رحمان آباد میں کھیل کے میدان کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق درخواست پر عدالت نے سیکریٹری محکمہ ہیومن سیٹلمنٹ سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے رفاہی پلاٹ کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سیکریٹری خود پیش ہوکر وضاحت دیں کہ یہ تبدیلی کیسے عمل میں آئی۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ رفاعی پلاٹ کو رہائشی پلاٹ میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

درخواست گزار محمد یوسف و دیگر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیڈرل بی ایریا بلاک 5 رحمان آباد میں مذکورہ پلاٹ کھیل کے میدان کے لیے مختص تھا، تاہم کچی آبادی کے نام پر اس پلاٹ کو لیز دے کر لوگوں کو الاٹ کردیا گیا، جس کے باعث وہاں چار سو سے زائد مکانات اور دکانیں قائم ہوچکی ہیں۔ محکمہ ہیومن سیٹلمنٹ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ اقدام وزیر اعلیٰ سندھ کے فیصلے کے تحت کیا گیا اور گزشتہ 25 برس سے لوگ وہاں رہائش پذیر ہیں۔ کے ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پلاٹ اصل میں کے ڈی اے کا تھا جسے پارک کے لیے کے ایم سی کے حوالے کیا گیا تھا، جبکہ پارک کی تعمیر اور دیکھ بھال کے ایم سی کی ذمہ داری تھی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 اپریل تک ملتوی کردی۔مزید برآں سندھ ہائی کورٹ میں پولیس ریکارڈ سے نام خارج کرنے کی درخواست پر عدالت نے ریکارڈ کو اپڈیٹ حالت میں برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار الٰہی بخش 2021 میں تھانہ موچکو میں درج غیر قانونی اسلحے کے مقدمے سے بری ہوچکے ہیں، تاہم ان کا نام تاحال پولیس ریکارڈ میں موجود ہے جس سے ان کے کیریئر پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ وکیل نے استدعا کی کہ درخواست گزار کا نام مکمل طور پر پولیس ریکارڈ سے خارج کیا جائے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی بریت کے بعد سی آر او ریکارڈ اپڈیٹ کردیا گیا ہے اور اس میں بریت کا اندراج شامل ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب ریکارڈ درست کیا جاچکا ہے تو عدالتی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا، تاہم پولیس کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کا ریکارڈ اپڈیٹ حالت میں برقرار رکھا جائے ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست نمٹا دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں