سکھر:حکومتی اعلانات کے باوجود گندم خریداری شروع نہ ہوئی
بارشوں سے گندم خراب ہونے اور کاشتکاروں کو سخت نقصان پہنچنے کا خدشہحکومت کی جانب سے یکم اپریل سے گندم کی خریداری کا اعلان کیا گیا تھا
سکھر (بیورو رپورٹ)اندرون سندھ حکومتی اعلانات کے باوجود گندم کی خریداری شروع نہ ہوسکی ، جس سے کاشتکار پریشان ہیں، بارشوں سے گندم خراب ہونے اور کاشتکاروں کو سخت نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ، ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الجبار ڈاہری کا کہنا ہے کہ سکھر ڈویژن میں تمام فوڈ سینٹرز کو مراکز ڈکلیئر کردیا گیا ہے ۔ خبر کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے یکم اپریل سے صوبے بھرمیں مراکز قائم کرکے کاشتکاروں سے گندم کی خریداری شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اس اعلان پر اندرون سندھ کے مختلف اضلاع میں عملدرآمد نہیں ہوسکا، اندرون سندھ مختلف اضلاع شکارپور، لاڑکانہ ،جیکب آباد ،نوشہروفیروز،شہید بینظیر آباد و دیگر میں محکمہ خوراک حکومتی احکامات اور ہدایات کے باوجود گندم کے خریداری مراکز قائم نہیں کرسکا۔
جس سے اندرون سندھ گندم کے کاشتکار سخت پریشانی کا شکار ہیں اور ان کی گندم کی فصل کھلے آسمان تلے پڑے رہنے بارشوں کی وجہ سے خراب ہونے کے باعث لاکھوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے ، گندم خریداری مراکز قائم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے مذکورہ اضلاع کے فوڈ حکام کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہیں، تاہم محکمہ فوڈ سکھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الجبار ڈاہری نے رابطے پر بتایا کہ سکھر ڈویڑن کے تینوں اضلاع سکھر ،خیرہور اور گھوٹکی میں محکمہ فوڈ کے جو گودام ہیں ان تمام کو گندم خریداری مراکز ڈکلیئر کردیا گیا ہے اور وہاں پر خریداری کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جبکہ ڈویژن میں نیا کوئی مرکز قائم نہیں کیا گیا ہے ۔