متوفی کوٹہ پر شہری کو ملازمت فراہم کرنے کاحکم

متوفی کوٹہ پر شہری کو ملازمت فراہم کرنے کاحکم

محکمہ بلدیات کاچھ برس تک درخواست پر فیصلہ نہ کرنا ناقابل قبول کسی بھی مناسب اسامی پر تقرری کی جا سکتی ہے ،سندھ ہائیکورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ بلدیات میں متوفی کوٹہ پر ملازمت فراہم نہ کرنے کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایک ماہ میں درخواست گزار کو تقرری کا لیٹر جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ کی جانب سے چھ برس تک درخواست پر فیصلہ نہ کرنا ناقابل قبول ہے اور یہ طرز عمل قانونی تقاضوں کے منافی ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار زین احمد کے والد محکمہ بلدیات میں دوران ملازمت انتقال کرگئے تھے ، جس کے بعد 2020 میں مرحوم کوٹہ پر ملازمت کے لیے درخواست دائر کی گئی، تاہم اس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کی طلب کردہ جونیئر کلرک کی اسامی خالی نہیں ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کے تحت درخواست گزار کو متوفی کوٹہ پر ملازمت کا حق حاصل تھا، تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کوٹہ ختم کیا جاچکا ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ ایسے حقوق جو پہلے ہی پیدا ہوچکے ہوں، وہ ختم نہیں ہوتے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق ملازمت کا حق والد کی وفات کے وقت ہی پیدا ہو جاتا ہے اور بعد میں قانون میں کی جانے والی تبدیلی اس حق کو متاثر نہیں کرتی۔عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے تحت گریڈ 1 سے 11 تک کسی بھی مناسب اسامی پر تقرری کی جا سکتی ہے اور موزوں اسامی فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں