ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ کی درخواست مسترد

قانون میں نئی تشریح پیدا کرنا قانون سازی کے مترادف،عدالتمعاملہ ازسرنو فیصلے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کردیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے نجی ایل این جی ٹرمینل کمپنی کی ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرنے کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ حکام نے استثنیٰ کی حدود کو غیر ضروری طور پر محدود کرتے ہوئے ایسی شرائط شامل کیں جو قانون میں موجود نہیں، لہٰذا درخواست گزار کی استثنیٰ کی درخواست پر قانون، متعلقہ ایس آر اوز اور عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 60 روز میں دوبارہ فیصلہ کیا جائے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کے تحت کمپنی کو ٹیکس میں رعایت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کے زیر استعمال فلوٹنگ اسٹوریج اینڈ ری گیسفیکیشن یونٹ کو بھی ٹیکس استثنیٰ دیا جانا چاہیے تھا اور درخواست گزار بطور پیٹرولیم کمپنی اس رعایت کی اہل ہے۔

سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ یونٹ کمپنی کی ملکیت نہیں بلکہ ایک غیر ملکی کمپنی کی ملکیت ہے ، لہٰذا درخواست گزار کو محض چارٹرر ہونے کی بنیاد پر ٹیکس استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون میں استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے مشینری کی ملکیت لازمی ہونے کی کوئی شرط موجود نہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون میں الفاظ شامل کرنا یا نئی تشریح پیدا کرنا دراصل قانون سازی کے مترادف ہے ، جو کہ مجاز نہیں، اور قانون میں موجود شرائط کے بجائے اپنی تشریح مسلط کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ متعلقہ حکام نے نہ صرف قانون بلکہ پہلے سے موجود عدالتی فیصلے کو بھی نظر انداز کیا، جو کہ درست طرز عمل نہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں