زرعی شعبہ سب سے بڑا ایکسپورٹر، سنگین مسائل کاشکار، آبادگار بورڈ

زرعی شعبہ سب سے بڑا ایکسپورٹر، سنگین مسائل کاشکار، آبادگار بورڈ

حکومت آئی ایم ایف پالیسیوں کو جواز بنا کر مسائل مزید پیچیدہ کر رہی، محمود نوازشعبہ ڈی ریگولیٹ کر کے حقیقی معنوں میں منافع بخش بنایا جائے ، پریس کانفرنس

لاڑکانہ (بیورو رپورٹ)سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ، سینئر نائب صدر سید ندیم شاہ، جنرل سیکریٹری ذوالفقار ہیسبانی، زوہیب الرحمان، ملک محمد، عرفان جتوئی و دیگر نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ زرعی شعبہ تقریباً 40 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے اور معیشت کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے ، وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران بھی اعتراف کیا کہ جی ڈی پی میں اضافہ زراعت کی بہتری سے ہوا تاہم اکنامک سروے کے مطابق گنے کے علاوہ 5 بڑی فصلوں، خصوصاً پنجاب میں مکئی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی، جو 20 سے 25 برسوں میں نہیں دیکھی گئی، ظاہر ہے کہ زرعی شعبہ سنگین مسائل کا شکار ہے ، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف پالیسیوں کو جواز بنا کر مسائل کو مزید پیچیدہ کر رہی ہے ، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ زرعی شعبے کو ڈی ریگولیٹ کر کے حقیقی معنوں میں منافع بخش بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ یوریا کی قیمت ڈی ریگولیشن کے بعد 1700 سے بڑھ کر ساڑھے 4 ہزار روپے تک پہنچ گئی، جس سے پیداواری لاگت میں بڑا اضافہ ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے گندم خریداری سے دستبرداری اختیار کی اور امپورٹ اس وقت کی جب ملک میں گندم کی کٹائی جاری تھی، جس کے باعث آبادگاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، گزشتہ سال 4 ہزار روپے امدادی قیمت تھی، لیکن کاشتکاروں کو 2400 سے 2600 روپے میں گندم فروخت کرنا پڑی اور آٹا مہنگے داموں خریدنا پڑا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں