ریٹائرڈ پی آئی اے ملازمین کوطبی سہولیات فراہم کرنے کاحکم

ریٹائرڈ پی آئی اے ملازمین کوطبی سہولیات فراہم کرنے کاحکم

فریقین کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا منظور پی آئی اے اور اسٹیٹ لائف انشورنس میں معاہدے کی تفصیلات طلب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ میں پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک ملازمین کو بلا رکاوٹ طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے پی آئی اے اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جبکہ فریقین کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا منظور کرلی گئی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کے بعد اس کے اثاثے اور واجبات پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے معاہدے کے تحت طبی سہولیات اسٹیٹ لائف انشورنس کے سپرد کر دی ہیں۔ وکیل نے مزید بتایا کہ انشورنس معاہدے کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کو مخصوص اسپتالوں اور ادویات تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ نان پینل سروسز کے اخراجات کا معاوضہ بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق پہلے پی آئی اے کی پرسنل پالیسی مینوئل کے تحت او پی ڈی اور اسپیشلسٹ کے اخراجات ادا کیے جاتے تھے ۔ درخواست گزار ملک نعیم اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ پی آئی اے انتظامیہ کے ان اقدامات سے ریٹائرڈ ملازمین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں