ریبیز کے علاج میں تاخیر جانوں کے ضیاع کاسبب قرار

ریبیز کے علاج میں تاخیر جانوں کے ضیاع کاسبب قرار

سگ گزیدگی کے بعد موثر طبی انتظام اور عوامی آگاہی اموات میں کمی کیلئے ناگزیر ایف پی سی سی آئی میں سیمینار سے ڈاکٹر نسیم صلاح الدین،روشن شیخ اور ارم تنویر کا خطاب

کراچی(سٹی ڈیسک)ریبیز کے بڑھتے ہوئے عوامی صحت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرکاری اداروں، ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے دفتر میں کتے کے کاٹنے سے بچاؤ اور ریبیز مینجمنٹ کے حوالے سے ایک کثیر فریقی سیمینار منعقد کیا گیا۔سیمینار میں پالیسی سازوں، طبی ماہرین، سرکاری حکام، سول سوسائٹی کے نمائندوں، میڈیا پروفیشنلز اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی ۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ، نائب صدور کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے شعبہ امراضِ متعدیہ کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا کہ ریبیز مکمل طور پر قابلِ تدارک مرض ہے ، تاہم علاج میں تاخیر، محدود آگاہی اور ویکسین تک رسائی میں خلا انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔ کتے کے کاٹنے کے بعد مؤثر طبی انتظام اور عوامی آگاہی میں وسعت اموات میں کمی کے لیے ناگزیر ہے ۔سابق سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ نے کہا کہ کتے کے کاٹنے کی روک تھام جزوی اقدامات سے ممکن نہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی کراچی ارم تنویر نے میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کلیدی کردار پر زور دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں