بی آرٹی منصوبے میں مشینری کی ضبطی غیر قانونی، سندھ ہائیکورٹ

بی آرٹی منصوبے میں مشینری کی ضبطی غیر قانونی، سندھ ہائیکورٹ

آئینی درخواست کی سماعت، الہ دین پارک کے قریب اراضی میٹرو پولیٹن کی زیر تحویلزمین 3سال کیلئے کرائے پردی گئی تھی، عدالت نے ٹھیکیدار کمپنی کی درخواست نمٹا دی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے سے متعلق ٹھیکیدار کمپنی اے ایم ایسوسی ایٹس کی درخواست نمٹا دی، عدالت نے قرار دیا کہ الہ دین پارک کے قریب 10 ایکڑ اراضی کی تحویل کراچی میٹروپولیٹن کے پاس ہے تاہم کمپنی کی مشینری سیل کرنا غیر قانونی اقدام تھا۔ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست کی سماعت جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھمبرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار کمپنی کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین احمد نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ الہ دین پارک، راشد منہاس روڈ گلشن اقبال پر قائم پراجیکٹ سائٹ کو ڈی سیل کرنے ، سرکاری اداروں کو مداخلت سے روکنے ، تعمیراتی سامان اور مشینری کے استعمال میں رکاوٹ نہ ڈالنے ، لاٹ ٹو کے منصوبے پر کسی نئی ٹینڈرنگ سے روکنے اور ناظر سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے سامان و مشینری کی انوینٹری تیار کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو مذکورہ اراضی تین سالہ کرائے پر دی گئی تھی اور یہ مدت 20 جولائی 2025 کو ختم ہوگئی، جس کے بعد کے ایم سی نے 6 اپریل 2026 کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 دن میں زمین خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ اکتوبر 2027 تک مکمل ہونا چاہیے جیسا کہ ٹائم لائن دی گئی ہے ۔ عدالت نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری بلدیات کو حکم نامے کی نقول ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایم آئی ٹی ٹو کو عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم بھی دیدیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں