سکھر:روہڑی کا صنعتی علاقہ تیس سال سے سہولتوں سے محروم
صنعتکار اپنی صنعتیں بند کرنے پرمجبور،سیکڑوں لوگ بیروزگار ہونے کا خدشہحکومت ٹیکس وصولی تک محدود، توجہ کے باوجود سہولتیں نہیں دیں، صنعتکار
سکھر(بیورو رپورٹ)روہڑی کا صنعتی علاقہ تیس سال سے سہولتوں سے محروم ہے ، جس سے صنعتکار اپنی صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہیں،سندھ حکومت کی جانب سے صنعتوں کے فروغ کے بلند وبانگ دعوے صرف اجلاسوں اور جلسوں تک محدود ہیں، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، سندھ کے صنعتی علاقے سہولتوں سے محروم ہیں روہڑی میں قائم سندھ اسمال انڈسٹریل ایریا سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی سے مسائل کا شکار ہے ، 30 سال سے قائم یہ انڈسٹریل ایریا لاوارث ہے ، یہاں پکی سڑک ہے نہ بجلی، نکاسی و فراہمی آب کا نظام بھی موجود نہیں، علاقے میں ہر وقت گندا پانی جمع رہتا ہے ، صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ اس انڈسٹریل ایریا میں سہولتیں فراہم کرنے پر تو نہیں ہے لیکن حکومت یہاں پر قائم صنعتوں سے ہر تین ماہ بعد لاکھوں روپے ٹیکس وصول کرنا نہیں بھولتی، روہڑی سندھ اسمال انڈسٹریز کے صنعتکاروں سریش لال ، گلاب رائے ،برج لال ، اومیش کمار ،وکرم کمار ودیگر نے بتایا کہ متعدد بار حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ سندھ اسمال انڈسٹریل ایریا میں سہولتوں کی عدم فراہمی اور مسائل۔کی طرف دلائی، لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، ہم کیسے صنعتیں چلائیں، اس لیے اب صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہیں جس سے لوگ بیروزگار ہونگے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صنعتیں بند کردیں تو یہ نقصان سندھ اور سندھ کے لوگوں کا ہوگا، حکومت ہوش کے ناخن لے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس انڈسٹریل میں چھیالیس پلاٹ ہیں لیکن سہولتیں نہ ہونے سے صرف پندرہ سے بیس پر ملیں قائم ہیں۔