اسٹریٹ کرائم بے قابو،پانچ ماہ میں 24 ہزار 195 وارداتیں

اسٹریٹ کرائم بے قابو،پانچ ماہ میں 24 ہزار 195 وارداتیں

20گاڑیاں گن پوائنٹ پر چھینی گئیں،موٹر سائیکل چھیننے کے445 واقعات فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں 56افراد قتل ،بھتہ خوری کے 10واقعات

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں اسٹریٹ کرائم،5 ماہ میں 24 ہزار 195 وارداتیں رپورٹ ، سی پی ایل سی نے تازہ اعداد وشمار جاری کردئیے ، مئی میں 4ہزار671 وارداتیں سامنے آئیں مئی میں مجموعی طور پر 20 گاڑیاں گن پوائنٹ پر چھینی گئیں،106 گاڑیاں چوری ہوئیں موٹر سائیکل چھیننے کے 445 واقعات رپورٹ،2,240 موٹر سائیکلیں چوری بھی کی گئیں ، سی پی ایل سی رپورٹ کے مطابق اسلحے کے زور پر شہریوں سے 1,860 موبائل فونز چھینے گئے ،مئی کے مہینے میں اغواء برائے تاوان کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ،بھتہ خوری کے 10 واقعات کے علاوہ ایک بینک ڈکیتی بھی رونما ہوئی۔مئی کے دوران فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں 56 افراد قتل ہوئے۔

سی پی ایل سی کی رپورٹ پر پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے شہر کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کو سندھ حکومت کی ناکامی قرار دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بڑھتا ہوا اسٹریٹ کرائم سندھ حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے ، جبکہ صرف پانچ ماہ میں 24 ہزار سے زائد وارداتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ارسلان خالد کے مطابق مئی کے ایک ہی مہینے میں 56 شہریوں کا قتل ہوا جو سندھ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مئی کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں موبائل فونز اور گاڑیاں چھینی گئیں جبکہ شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں