پنشن واجبات کیس،احکامات پر عمل نہ ہونے پر عدالت برہم

پنشن واجبات کیس،احکامات پر عمل نہ ہونے پر عدالت برہم

سیکریٹری صحت کا رویہ سنگین غفلت کا مرتکب قرار، تمام فریقین کو نوٹس جاری ممبرانسپکشن ٹیم کو احکامات پر عملدرآمد کی ہدایت، سماعت 29 جون تک ملتوی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ صحت کے مرحوم ملازم کی بیوہ کو پنشن اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو ازسرنو نوٹس جاری کر دیے ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا شوہر فیروز انور خان محکمہ صحت میں ملازم تھا، تاہم اس کے انتقال کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے پنشن اور دیگر مالی مراعات ادا نہیں کی جا رہیں۔ وکیل درخواست گزار عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت پہلے ہی سیکریٹری صحت کو مرحوم ملازم کے واجبات ناظر سندھ ہائی کورٹ کے پاس جمع کروانے کا حکم دے چکی ہے لیکن اس کے باوجود عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ تاحال عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا اور متعلقہ سیکریٹری کی جانب سے جواب بھی جمع نہیں کرایا گیا۔ اس موقع پر عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ سیکریٹری کا طرزِ عمل عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے اور ان کا رویہ سنگین غفلت کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس دورانعدالت نے ممبر انسپکشن ٹیم-II کو ہدایت کی کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے تمام فریقین کو ازسرنو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 29 جون تک ملتوی کر دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں