بچوں کے حقوق صرف وعدہ نہیں، حقیقت بننا چاہئے :جسٹس عائشہ

بچوں کے حقوق صرف وعدہ نہیں، حقیقت بننا چاہئے :جسٹس عائشہ

مسئلہ قانون سازی نہیں موثر عملدرآمد، زندگیوں میں تبدیلی نظام کی کامیابی میں ہے 1996کے بعد سروے نہ ہونا تشویشناک:جج سپریم کورٹ کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کیلئے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر موثر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا تاکہ بچوں کے حقوق محض آئینی وعدہ نہ رہیں اور عملی حقیقت بن سکیں۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے بچوں کے حقوق سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کا آئین بچوں کے حقوق، تعلیم، وقار اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے تاہم مختلف رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بڑی تعداد میں بچے آج بھی تعلیم سے محروم اور مشقت پر مجبور ہیں۔ اصل مسئلہ قانون سازی نہیں بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد ہے ، اگر بچے اب بھی مزدوری کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ قانون اور ریاستی وعدوں کے درمیان ایک خلا موجود ہے ، جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا چائلڈ لیبر کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو اعداد و شمار میں شامل نہیں، خصوصاً گھریلو کاموں میں مصروف بچیاں، جن کی محنت اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے ، ملک میں چائلڈ لیبر سے متعلق آخری جامع سروے 1996 میں کیا گیا تھا جو اس مسئلے کی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے ۔ ریاست کو اپنے وسائل کو بچوں کی تعلیم، صحت اور فلاح پر مرکوز کرنا ہوگا۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں