ہائیکورٹ نے بیٹی سے زیادتی کے ملزم کی ضمانت مسترد کردی
بادی النظر میں متاثرہ بچی کا بیان قابل اعتماد، ریکارڈ میں ایسا مواد نہیں جوبدنیتی پرمبنی ہو، ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے کمسن بیٹی سے مبینہ زیادتی کے ملزم اعجاز کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بادی النظر میں متاثرہ بچی کا بیان قابل اعتماد اور فطری معلوم ہوتا ہے ، ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جو والد کو جھوٹے مقدمے میں پھنسائے جانے یا بدنیتی پر مبنی کارروائی کی نشاندہی کرے ۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ جھوٹا اور گھریلو تنازعات کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدعیہ کی ملزم کے ساتھ تیسری شادی تھی اور شادی کے وقت کیے گئے وعدوں پر بعد ازاں اختلافات پیدا ہوگئے ۔ وکیل صفائی نے مزید استدلال کیا کہ طبی شواہد بھی ملزم کے خلاف عائد الزامات کی تائید نہیں کرتے ۔ جسٹس عمر سیال نے وکیل صفائی کے دلائل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ دلائل متاثرہ بچی کے صدمے کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کے مترادف ہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست ضمانت میں مدعیہ کی دوسری شادی سے متعلق تحقیر آمیز ریمارکس شامل کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خواتین وکلا سے خواتین کے مسائل اور حساس نوعیت کے مقدمات کے حوالے سے زیادہ حساسیت کی توقع کی جاتی ہے ۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بچی کا بیان بظاہر قابل اعتماد اور فطری ہے جبکہ اس کا طرز عمل اور رویہ ایسے بچوں سے مطابقت رکھتا ہے جو صدمے سے گزرے ہوں۔