قلت آب سے خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ،آبادگار

قلت آب سے خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ،آبادگار

پانی کمی کے اثرات خوراک، روزگار اور قومی معیشت پر بھی مرتب ہونگےآبی معاہدے کے مطابق سندھ کو جائز، مقررہ حصہ فراہم کیا جائے ،کاشتکار

پنگریو (نمائندہ دنیا) سندھ میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے پانی کی فراہمی میں 17000 کیوسک کمی کے باعث صوبہ بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ آبی حلقوں، ماہرین اور کاشتکار تنظیموں کا کہنا ہے کہ پانی کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خریف کی اہم فصلوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ سندھ ڈیلٹا، ساحلی علاقوں اور دیہی معیشت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی زرعی معیشت کا انحصار دریائے سندھ کے پانی پر ہے ،بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ، خیرپور اور دیگر اضلاع میں کپاس، دھان، گنا اور دیگر فصلوں کو اس وقت مناسب مقدار میں پانی درکار ہے ، پانی کی کمی برقرار رہی تو زرعی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے ، جس کے اثرات خوراک کی دستیابی، دیہی روزگار اور قومی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے ۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق کوٹری بیراج کے نیچے مطلوبہ مقدار میں میٹھا پانی نہ پہنچنے کے باعث سندھ ڈیلٹا مسلسل دباؤ کا شکار ہے ،سمندر کا کھارا پانی ساحلی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے زرعی زمینوں، مینگرووز کے جنگلات اور مقامی آبادیوں کو خطرات لاحق ہیں،سندھ ڈیلٹا کو بچانے کے لیے دریائے سندھ میں مناسب ماحولیاتی بہاؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے ،ایسے حالات میں پانی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ آبادگار تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ 1991ء کے آبی معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا مقررہ اور جائز حصہ فراہم کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں