بلدیاتی مزدرووں و پنشنرزکاکے ایم سی ہیڈآفس پر دھرنا
ملازمین اور پنشنرز کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھےپی پی کی سٹی کونسلر کی مظاہرین کو میئر کو مطالبات پیش کرنے کی یقین دہانی
کراچی(این این آئی)میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کی جانب سے کے ایم سی اور بعض ٹی ایم سیز کے ملازمین کو گزشتہ برس کا تنخواہوں میں کیا گیا اضافہ ادا نہ کرنے اور پنشنرز کو 3برسوں کے دوران اضافہ کردہ 33فیصد پنشن میں عدم اضافے کے باعث کے ایم سی کے بجٹ میں اس مقصد کیلئے رقم مختص کروانے کیلئے بجٹ کے موقع پر بھرپور احتجاج کیا گیا۔اس موقع پر ملازمین اور پنشنرز کی بڑی تعداد موجودتھی جو ہاتھوں میں بینر اور مطالبات پر مبنی کتبے اٹھاکر وقفے وقفے سے نعرے لگارہے تھے ۔اس موقع پر سید ذوالفقارشاہ نے کہا کہ احتجاج فی الحال موخر کیا جارہا ہے ۔اضافے ادا نہ کرنے پر سندھ ہائی کورٹ میں کے ایم سی سے ماہوار ایک ارب 93 کروڑ اور 20 کروڑ ٹی ایم سیز پنشنرز کے لیے جاری ہونے کا مکمل حساب طلب کرنے کیلئے پٹیشن دائر کی جائے گی اور ہر اجلاس کے موقع پر بھاری طاقت سے احتجاج ایم اے جناح روڈ پر کیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے ۔احتجاج کے دوران پی پی کی سٹی کونسلر زیبا بلوچ نے مظاہرین کے مطالبات پر بات چیت کی اور میئر کراچی کو مطالبات پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔اس دوران جماعت اسلامی کے یوسی چیئرمین جنید میکاتی،ٹرانس جینڈر رکن شہزادی اور دیگر نے بھی مظاہرین سے یکجہتی کی۔ جبکہ عباسی شہیداسپتال کے نرسنگ اسٹاف نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔