شہر کو 300ارب کے ایمرجنسی بجٹ کی ضرورت،سیف الدین
مرتضیٰ وہاب کا 60 ارب روپے کا بجٹ شہریوں کے ساتھ سنگین مذاق،اپوزیشن لیڈر انفراسٹرکچر سیس کی مد میں جمع 180 ارب روپے فوری بلدیہ عظمیٰ کودینے کامطالبہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا 60 ارب روپے کا بجٹ کامیابی کے طور پر پیش کرنا شہریوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے ، حقیقت یہ ہے کہ کراچی جیسے عظیم شہر کو کم از کم 300 ارب روپے کے ایمرجنسی بجٹ کی ضرورت ہے ۔ 7ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس دینے والے شہر کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناانصافی ہے اور کراچی خیرات نہیں بلکہ اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہا ہے۔ ہمارامطالبہ ہے کہ انفراسٹرکچر سیس کی مد میں جمع ہونے والے 180 ارب روپے فوری طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے حوالے کیے جائیں، اسی طرح کراچی سے وصول ہونے والا 10 ارب روپے کا موٹر وہیکل ٹیکس بھی کے ایم سی کو منتقل کیا جائے ۔دنیا کے بڑے شہروں کے بجٹ سے کراچی کا موازنہ کیا جائے تو صورتحال انتہائی افسوسناک نظر آتی ہے ۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور معاشی حب کراچی کو صرف 60 ارب روپے کا بجٹ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے ۔اپوزیشن لیڈر نے مزیدکہاکہ بجٹ کی دستاویزات پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کراچی نہیں بلکہ کسی یورپی شہر میں رہ رہے ہوں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔