گرمی کے باعث گیسٹرو اور اسہال کے کیسز میں خطرناک اضافہ،اسپتالوں میں مریضوں کا رش

گرمی  کے  باعث  گیسٹرو  اور  اسہال  کے  کیسز  میں  خطرناک  اضافہ،اسپتالوں  میں  مریضوں  کا  رش

سول اور جناح اسپتال میں یومیہ 350 مریض لائے جارہے ہیں،غیر معیاری، آلودہ اور باہر کے بازاری کھانے گیسٹرو کا پھیلاؤ مزید تیز کر رہے ہیں

کراچی (آئی این پی) گیسٹرو اور اسہال کے کیسز میں اضافہ کے بعد اسپتالوں کی ایمرجنسی میں رش بڑھ گیا اور مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی۔ذرائع کے مطابق شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسیز میں مریضوں کا شدید رش بڑھ گیا ہے اور یومیہ سیکڑوں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال کراچی میں روزانہ پیٹ کے امراض اور ڈائریا کے 200 سے زائد مریض لائے جا رہے ہیں، جبکہ جناح اسپتال میں بھی گیسٹرو کے یومیہ مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے ۔جناح اسپتال کے ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ شہری شدید پیٹ درد، الٹی، متلی اور لوز موشن کی شکایات کے ساتھ بڑی تعداد میں اسپتال پہنچ رہے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے بعد قربانی کا گوشت غلط طریقے سے محفوظ کرنے کی وجہ سے معدے اور آنتوں کے امراض میں یہ خوفناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔فریزر میں طویل وقت تک رکھے گئے گوشت کو اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے ، تو وہ پیٹ کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔ماہرینِ صحت کے مطابق شدید گرمی کے موسم میں خوراک کے اندر جراثیم (بیکٹیریا) کی افزائش بہت تیزی سے ہوتی ہے ۔ ایسے میں غیر معیاری، آلودہ اور باہر کے بازاری کھانے گیسٹرو کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرمی کے پیشِ نظر باہر کے کھانوں اور باسی گوشت سے پرہیز کریں، پانی ابال کر پیئیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ اس وبائی صورتحال سے بچا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں