زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی کی ڈی این اے رپورٹ
رپورٹ میں بچی کے کپڑوں سے کم از کم تین مختلف افراد کا ڈی این اے ملا ہےمقدمے میں گرفتار ملزمہ سکینہ اور اس کے بھائی نادر کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ
کراچی(اسٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) قائد آباد میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ڈھائی سالہ بچی کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آ گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق بچی کے کپڑوں سے کم از کم تین مختلف افراد کا ڈی این اے ملا ہے ۔ اس کیس میں ابتدائی طور پر 14 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے جبکہ بعد ازاں مزید افراد کے سیمپلز بھی لیے گئے ۔ علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے تین سالہ بچی کے قتل اور بوری بند لاش برآمد ہونے کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ سکینہ اور اس کے بھائی نادر کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت دے دی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار ملزمہ سکینہ مقتولہ تین سالہ بچی کی چچی ہے ۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ نے 23 جون کو بچی کا گلا دبا کر اسے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق قتل کے بعد ملزمہ نے لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے بھائی نادر کی مدد حاصل کی، جس کے بعد بچی کی لاش بوری میں بند کرکے گھر کے باہر پھینک دی گئی، جہاں سے بعد میں پولیس نے لاش برآمد کی۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزمان سے مزید پوچھ گچھ، شواہد کی تکمیل اور دیگر حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ قائد آباد تھانے میں درج ہے اور تفتیش مختلف پہلوؤں سے آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments