ایک اور بچہ ایچ آئی وی کا شکار،تعداد 95ہوگئی
تازہ کیس میں 18 ماہ کے بچے عبدالصمد میں وائرس کی تصدیق، بیٹا دسمبرمیں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا ، طبیعت مسلسل خراب رہنے پر ٹیسٹ کرایا ،والد متاثرہ بچوں کی اموات کی تعداد 9ہوگئی ، والدین کااحتجاج ، ادویات اور ضروری سہولیات نہ ملنے کا شکوہ، مطالبات نہ مانے جانے پر انتہائی اقدام کی دھمکی
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ولیکا اسپتال میں ایک اور ایچ آئی وی کیس رپورٹ ہوا ہے جس میں 18 ماہ کے بچے کی رپورٹ مثبت آئی ہے جس کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 95 ہو گئی ہے ۔ولیکا اسپتال سے منسلک ایچ آئی وی آؤٹ بریک کے حوالے سے ایک اور نیا کیس سامنے آ گیا ہے جہاں 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے ۔اس نئے کیس کے بعد ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 95 ہو گئی جبکہ اب تک 9 بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔متاثرہ بچے عبدالصمد کے والد کے مطابق ان کا 18 ماہ کا بیٹا دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج رہا تھاجس کے بعد بچہ مسلسل بیمار رہنے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کرایا گیا جس کے نتیجے میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔متاثرہ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے 5 بچے ہیں اور وہ باقی بچوں کے بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ کرائیں گے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں بھی اطمینان حاصل کیا جا سکے ۔دوسری جانب ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین نے ولیکا اسپتال میں احتجاجی مظاہرہ کیا ۔اسپتال میں احتجاج کے دوران بچوں، خواتین اور بزرگ افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔ا س موقع پر احتجاج کے شرکا نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔احتجاج کرنے والے والدین نے مطالبہ کیا کہ ان کی داد رسی کے لیے مقرر کیے گئے فوکل پرسن سعادت میمن کو تبدیل کیا جائے ۔ والدین نے الزام عائد کیا کہ فوکل پرسن سعادت میمن کئی بار کرپشن کے الزام میں پکڑے جا چکے ہیں، اس لیے انہیں موجودہ ایم ایس سمیت فوری طور پر تبدیل کیا جائے ۔والدین نے شکوہ کیا کہ صوبائی وزیر سعید غنی کے اعلان کے باوجود انہیں کوئی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو انہیں ادویات مل رہی ہیں اور نہ ہی دیگر ضروری سہولیات میسر ہیں۔احتجاج کرنے والے والدین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کریں گے ۔والدین نے کہا کہ احتجاج کے دوران وہ اپنے بچوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دیں گے اور اس صورت میں کسی بھی انتہائی اقدام کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ہوگی۔واضح رہے کہ وزیر محنت نے اعلان کیا تھا کہ متاثرہ بچوں کے علاج، ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، طبی نگہداشت، تعلیم اور دیگر فلاحی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ بچوں کو طویل المدتی مالی اور طبی معاونت فراہم کی جا سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments