کنٹریکٹ ملازم کی مستقل کرنے کی درخواست خارج
طویل عرصے کی بنیاد پر مستقل ملازمت کا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا،عدالت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے ذوالفقار آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے کنٹریکٹ ملازم کی مستقل تقرری کی درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ کنٹریکٹ ملازم کو محض طویل عرصے تک ملازمت کرنے کی بنیاد پر مستقل ملازمت کا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں آئینی بینچ کے روبرو درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار سجاد علی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ 2015 سے 2024 تک ذوالفقار آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں کنٹریکٹ پر ڈپٹی ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیتے رہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سجاد علی نے دوران ملازمت دیانت داری سے فرائض انجام دیے اور انہیں کبھی بدعنوانی یا کسی محکمانہ کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بطور گورننگ باڈی چیئرمین ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم متعلقہ حکام نے سندھ کابینہ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ 2017 اور 2021 میں دیگر کنٹریکٹ ملازمین کو بھی مستقل کیا جاچکا ہے ، اس لیے درخواست گزار کو بھی مستقل کیا جائے ۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کاکنٹریکٹ 2024 میں مدت پوری ہونے پر ختم ہوچکا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments