کے الیکٹرک کے قابل تجدید توانائی منصوبے تاحال غیر یقینی کا شکار

کے الیکٹرک کے قابل تجدید توانائی منصوبے تاحال غیر یقینی کا شکار

صارفین مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے منصوبوں میں مزید تاخیر بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کی راہ میں رکاوٹ بنے گی ،تحقیقی رپورٹ میں انکشاف

کراچی(کامرس رپورٹر)ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے 640میگاواٹ کے قابلِ تجدید توانائی منصوبے تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کے باعث کراچی کے بجلی صارفین مستقبل قریب میں بھی مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے ۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان منصوبوں میں مزید تاخیر نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کی راہ میں رکاوٹ بنے گی بلکہ توانائی کے تحفظ اور بجلی کی فراہمی کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔تحقیقی ادارے کو رینیوایبلز فرسٹ اورپالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (پی آرآئی ای ڈی)کی مشترکہ رپورٹ میں کے الیکٹرک کے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، ان کے معاشی فوائد اور ان پر عملدرآمد میں تاخیر کے ممکنہ نتائج کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک نے 2024 کے دوران شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے تین منصوبوں کی کامیاب نیلامی کی تھی، جنہیں متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے ۔ان منصوبوں سے مجموعی طور پر640 میگاواٹ بجلی حاصل ہونا تھی، جبکہ ان کے لیے بجلی کی قیمت تقریباً 8 روپے 90 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی، جو ملک میں کم لاگت بجلی کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی تھی تاہم تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبے اشاریہ جاتی بجلی پیداوار استعداد توسیعی منصوبہ 2025 (آئی جی سی ای پی) کے بنیادی منصوبے میں شامل نہیں کیے گئے ، جس کے نتیجے میں تمام قانونی اور ریگولیٹری منظوریوں کے باوجود ان منصوبوں پر عملی پیش رفت رکی ہوئی ہے رپورٹ کے مطابق اس وقت کے الیکٹرک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 90 فیصد حصہ درآمدی ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) پر منحصر ہے ، جبکہ قومی گرڈ سے درآمد کی جانے والی بجلی کمپنی کی تقریباً نصف طلب پوری کرتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق درآمدی ایندھن پر یہ انحصار عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی صورت میں توانائی کے تحفظ اور صارفین کے لیے بجلی کی لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے رپورٹ میں توانائی کی منڈی کی تجزیہ کار رمشا پنہور کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کو اپنے بجلی پیدا کرنے کے ذرائع میں تنوع لانا ہوگا۔ ان کے مطابق شمسی اور ہوائی توانائی، بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام، مقامی توانائی کے ذرائع اور قومی گرڈ سے متوازن بنیادوں پر بجلی کی فراہمی ہی ایک محفوظ اور پائیدار توانائی نظام کی بنیاد بن سکتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...